Friday , March 22 2019
uren

انڈیا، ولیمہ اور فیڈرل اصول: فہمیدہ ریاض

(فهميده رياض جي هڪ پراڻي لکڻي)

آج ایک بہت دلچسپ دعوت ولیمہ سے آرہی ہوں۔ کہنے کو تو ولیمہ تھا لیکن ایک سیاسی جلسہ جیسا تھا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی دو تیں جنریشنز جمع تھیں اور گلے مل مل کر ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کر رہی تھیں۔ جے این یو سے رشتہ رکھنے والوں کا ایک دوسرے سے قرب بے مثال ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں نہرو نے اس کی بنیاد ڈالی تھی۔ انگریز کے زمانے میں غریب گھروں کے لڑکوں کو اچھے اداروںمیں داخلہ نہیں ملتا تھا۔ یہ نہرو کا کانسیپٹ تھا کہ ہندوستان بھر کے شہروں اور گاﺅں سے غریب گھروں کے بہتریں طلبا کو لایا جائے ور ان کو اعلی ترین تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ دیا جائے۔
جب غربت، ذہانت اور علم اکھٹا ہوں ، تب تو ایک مارکسسٹ ہی بنتا ہے۔ پنڈت نہرو نے شاید ایسا نہ چاہا ہو لیکن ستر کی شروعات سے یہ یونیورسٹی مارکسزم کا گڑھ بن گئی۔ اس کا یہ کیریکٹر آج بھی قائمہے۔یہ صرف سول سروسز ، اور ہندوستان کی بے حد بڑی اساتذہ کمیونٹی کو ہی نہیں ، ہندوستان کی سیاسی جماعتوں کو بھی فیڈ کرتی ہے۔

میرا اس سے یہ رشتہ ہے کہ ۱۹۸۱ میں جب ہم وارد ہوئے تھے تو سب سے پہلی پناہ گاہ اس کا مہمانوں کا ہاسٹل گومتی گیسٹ ہاﺅس ہی تھا۔پھر میری گرانٹ یہاں سے روٹ آﺅٹ ہوتی تھی۔۔۔اور پھر یہیں تو پڑھی تھی میں نے وہ نظم۔۔۔تم بالکل ہم جیسے نکلے۔۔۔۔ وہ تو یادگار ہے ۔بہت پیار کرنے والے لڑکے اور لڑکیاں۔۔اب تو کافی عمر کے ہیں سب۔ دیدی کہہ رہے تھے ہم کو۔ چپ چاپ آنسو پونچھے ہم نے۔ کسی کو پتہ نہیںچلا۔
دہلی میں جہاں میں ٹھہری ہوں آجکل ، ڈی پی کے گھر، جو کہ دیوی پرساد تیماٹھی ہیں، کتابوں کا ایک خزانہ ہے۔ دانتے سے لیکر ارخان پامک تک اور بےشمار تاریخی اور سیاسی کتابیں۔۔تو دیوالی کی چھٹیوں میں انتخاب مشکل تھا۔ آخر مارک ٹلی کی کتاب ”نو فل سٹاپس ان انڈیا“ پڑھنی شروع کردی۔ کتاب تو پرانی ہے مگر بیتے دنوں کی ایک ری و زٹنگ کی طرح پڑھ رہی تھی۔ تو جناب سنیئے۔۔ میں نے اپنی ناول گوداوری میںلکھا تھا کہ بنگال کے لوگ سی پی ایم کو اس لئے ووٹ دیتے ہیں کیونکہ وہ دہلی کے تحت رہنا نہیں چاہتے۔۔یہ پڑھ کر بہت مسکرائکہ مارک ٹلی نے بھی بالکل یہی بات لکھی ہے۔ اب ہمارا تجزیہ کوئی ایسا ویسا تو ہوتا نہیں۔ آپ خود دونوں کتابیں پڑھ کر دیکھ لیجئے۔

ایک دو دن میں االہ باد جاﺅںگی۔ وہاں ایک دولیکچر ہیں۔۔ایک کا عنوان ہے انڈرسٹینڈینگ پاکستان۔۔۔میرا خیال ہے کہ پاکستان کی ٹھارویں ترمیم کو پڑھنے کی طرف راغب کروں تاکہ سمجھیں کہ پاکستان کیا اب تک نہیں تھا۔ وہ فیڈرل ہی نہیں تھا۔ سننے والے کالج یونیورسٹی کے پڑھانے والے اور الہ اباد کے صحافی ہیں۔لیکن اب کوشش کی جا رہی ہے پاکستان میں۔ ایسا ان کو بتاوں گی۔ سچ مچ فیڈرل بنا دیںتو انڈیا سے جنگ بھی نہیں کرے گا پاکستان۔ اچھا پوائنٹ ہے ؟

About Asghar Azad

Check Also

ملڪي ميڊيا سنڌ واسين خلاف سازش بند ڪري- اصغر آزاد

Share this on WhatsApp جڏهن کان سپريم ڪورٽ جي چيف جسٽس، مسٽر جسٽس ميان ثاقب …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *